Wednesday, 1 January 2014

قول ڈاکٹر وزیر آغا

 بقول ڈاکٹر وزیر آغا

           ’’ سوسئیر کی لسانیات جس تیسرے نکتے پر استوار ہے ، وہ زبان کی Langue اور Parole میں تقسیم ہے۔ لانگ سے سوسئیر کی مراد ، زبان کا وہ نظام (System) ہے جو نظروں سے اوجھل رہتاہے جبکہ پارول سے مُراد کلا م یا گفتار ہے جو زبان کے نظام پر قائم ہوتی ہے۔ ٹیرنس ہاکس کے بقول ، گفتار (پارول)آئس برگ کا وہ حصہ ہے جو پانی کی سطح کے اوپر موجود نظر آتاہے۔جبکہ زبان (لانگ) وہ حصہ ہے جوزیرِ سطح ہونے کے باعث نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔واضح رہے کہ لانگ، آئس برگ کے مخفی حصہ کی طرح ٹھوس نہیں، لہٰذاکسی ایسے آئس برگ کا تصور کرنا ہوگا جس کا ظاہرحصہ تو ٹھوس ہے مگر مخفی حصہ ایک ایسی مادی ’’شے‘‘ یانظام ہے جو اصلاً روایتوں، رشتوں اور اصولوں یعنی گرامر پر مشتمل ہے۔‘‘
  ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اس ضمن میں یوں رقمطراز ہیں
           ’’ ان دونوں کا فرق سوسئیر کے فلسفہ لسان کا کلیدی نکتہ ہے، اور اس کے نتائج دور رس ہیں، گویاLANGUE سے کم و پیش وہ تصور مراد ہے جس کو عرف عام میں ’ لسان ‘ کہتے ہیں۔یعنی لسانی قواعدو ضوابط وروایات کا جامع ذہنی تصور جس کی رو سے ہم کسی لسانی سماج میں ترسیل و ابلاغ کا کام لیتے ہیں، جبکہ PAROLE روز مرّہ ’ تکلم ‘ ہے، یعنی زبان کا وہ استعمال جو زبان والا کوئی بھی فرد کرتا ہے۔ گویا LANGUE ایک جامع تجریدی تصور ہے ، ایک کلی ذہنی نظام جو کوئی بھی زبان رکھتی ہے، یعنی زبان کا جامع تجریدی وجود ، اور PAROLE اس کا محض وہ حصہ ہے جو کوئی فرد کسی وقت تکلم کے لئے استعمال میں لاتا ہے۔‘‘
         درج بال حوالہ جات سے بھی Langue اور Parole کی وضاحت اور فرق بڑی اچھی طرح اور عمدگی سے ظاہر ہو گیا ہے۔

1 comment:

  1. یہ ڈاکٹر وزیر آغا کے کس مضمون سے لیا گیا ہے ؟

    ReplyDelete