LANGUE & PAROLE
سوسئیر کی لسانیات کا تصور جس خاص انوکھے اورمنفرد نکتے پر استوار ہے وہ
زبان کا تصور ہے اور وہ زبان کا تصور دو طرح سے بیان کر تا ہے ایک
کو وہ Langue ہتا ہے اور دوسرے کو وہ Parole سے تعبیر کرتاہے۔
Langue اور Parole میں سوسئیر نے جو خاص جدلیاتی ناطہ اور رشتہ قائم
کیا ہے وہ خاص کر بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔یہی بات مستقبل میں لسانیات کی
ترقی اور کامیابی وکامرانی میں بالعموم اور ساختیات کی ترقی و عروج میں
بالخصوص نہ صرف ممدو معاون ثابت ہوئی بلکہ رہبرو راہنما کا روپ دھار کر
ابھری۔
سوسئیر کے مطابق Langue اور Parole میں فرق یہ ہے کہ زبان کا جامع نظام ( جو زبان کی کسی بھی فی الواقعہ actual مثال سے پہلے موجود ہے) Langue ہے۔ اور تکلم یعنی بولے جانے والا کوئی بھی واقعہParole ہے۔ جو زبان کے جامع نظام Langue کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا اور اس کے اندر خلق ہوتا ہے۔
اس تصور کو ہم اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کہ جیسے دریا یا سمندر کے اندر پانی کی موجیں اور لہریں پانی کی موجودگی کی علامت ہیں۔ اس کو ہم Langue سے تشبیہ دے سکتے ہیں اور جب یہ پانی اپنے اس مآخذ سے ندی ، نالے یا نہر کی صورت میں بہتا ہے تو یہ اس کی روانی ہے اور اس کو ہم Parole سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ اس مثال میں بھی ہم دیکھتے ہیں کی لہریں دریا کی ہوں یاسمندر کی ان کا رخ افقی ہوتا ہے اور پانی کے بہا ؤ کا رخ جو اس کی روانی کو ظاہر کر رہی ہے راسی رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس مثال سے میں بھی دونوں Terms کا نہ صرف اظہار واضح ہوتا ہے بلکہ Langue اور Parole کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ Langue اصل مآخذ زبان یا زبان کا وہ ذخیرہ الفاظ ہے جو انسان کے اندر موجود ہو تا ہے اور اس کا اظہار یعنی تقریر یا اظہارِ بیان Parole ہے پانی کی روانی کی طرح اس میں بھی روانی کا پہلو ظاہر ہوتا ہے۔
درج بالا مثال اور تصاویر سے Langue اور Parole کا تصور بڑی اچھی طرح نہ صرف واضح ہوگیا بلکہ ان کے فرق کا اظہار بھی بڑی عمدگی اور نفاست سے بھر پور انداز میں واضح ہو گیا۔
(جاری ہے)
سوسئیر کے مطابق Langue اور Parole میں فرق یہ ہے کہ زبان کا جامع نظام ( جو زبان کی کسی بھی فی الواقعہ actual مثال سے پہلے موجود ہے) Langue ہے۔ اور تکلم یعنی بولے جانے والا کوئی بھی واقعہParole ہے۔ جو زبان کے جامع نظام Langue کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا اور اس کے اندر خلق ہوتا ہے۔
اس تصور کو ہم اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کہ جیسے دریا یا سمندر کے اندر پانی کی موجیں اور لہریں پانی کی موجودگی کی علامت ہیں۔ اس کو ہم Langue سے تشبیہ دے سکتے ہیں اور جب یہ پانی اپنے اس مآخذ سے ندی ، نالے یا نہر کی صورت میں بہتا ہے تو یہ اس کی روانی ہے اور اس کو ہم Parole سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ اس مثال میں بھی ہم دیکھتے ہیں کی لہریں دریا کی ہوں یاسمندر کی ان کا رخ افقی ہوتا ہے اور پانی کے بہا ؤ کا رخ جو اس کی روانی کو ظاہر کر رہی ہے راسی رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس مثال سے میں بھی دونوں Terms کا نہ صرف اظہار واضح ہوتا ہے بلکہ Langue اور Parole کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ Langue اصل مآخذ زبان یا زبان کا وہ ذخیرہ الفاظ ہے جو انسان کے اندر موجود ہو تا ہے اور اس کا اظہار یعنی تقریر یا اظہارِ بیان Parole ہے پانی کی روانی کی طرح اس میں بھی روانی کا پہلو ظاہر ہوتا ہے۔
درج بالا مثال اور تصاویر سے Langue اور Parole کا تصور بڑی اچھی طرح نہ صرف واضح ہوگیا بلکہ ان کے فرق کا اظہار بھی بڑی عمدگی اور نفاست سے بھر پور انداز میں واضح ہو گیا۔
(جاری ہے)