Tuesday, 31 December 2013

LANGUE & PAROLE

LANGUE & PAROLE

           سوسئیر کی لسانیات کا تصور جس خاص انوکھے اورمنفرد نکتے پر استوار ہے وہ زبان کا تصور ہے اور وہ زبان کا تصور دو طرح سے بیان کر تا ہے ایک کو وہ Langue ہتا ہے اور دوسرے کو وہ Parole سے تعبیر کرتاہے۔ Langue اور Parole میں سوسئیر نے جو خاص جدلیاتی ناطہ اور رشتہ قائم کیا ہے وہ خاص کر بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔یہی بات مستقبل میں لسانیات کی ترقی اور کامیابی وکامرانی میں بالعموم اور ساختیات کی ترقی و عروج میں بالخصوص نہ صرف ممدو معاون ثابت ہوئی بلکہ رہبرو راہنما کا روپ دھار کر ابھری۔
           سوسئیر کے مطابق Langue اور Parole میں فرق یہ ہے کہ زبان کا جامع نظام ( جو زبان کی کسی بھی فی الواقعہ actual مثال سے پہلے موجود ہے) Langue ہے۔ اور تکلم یعنی بولے جانے والا کوئی بھی واقعہParole ہے۔ جو زبان کے جامع نظام Langue کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا اور اس کے اندر خلق ہوتا ہے۔
          اس تصور کو ہم اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کہ جیسے دریا یا سمندر کے اندر پانی کی موجیں اور لہریں پانی کی موجودگی کی علامت ہیں۔ اس کو ہم Langue سے تشبیہ دے سکتے ہیں اور جب یہ پانی اپنے اس مآخذ سے ندی ، نالے یا نہر کی صورت میں بہتا ہے تو یہ اس کی روانی ہے اور اس کو ہم Parole سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ اس مثال میں بھی ہم دیکھتے ہیں کی لہریں دریا کی ہوں یاسمندر کی ان کا رخ افقی ہوتا ہے اور پانی کے بہا ؤ کا رخ جو اس کی روانی کو ظاہر کر رہی ہے راسی رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس مثال سے میں بھی دونوں Terms کا نہ صرف اظہار واضح ہوتا ہے بلکہ Langue اور Parole کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ Langue اصل مآخذ زبان یا زبان کا وہ ذخیرہ الفاظ ہے جو انسان کے اندر موجود ہو تا ہے اور اس کا اظہار یعنی تقریر یا اظہارِ بیان Parole ہے پانی کی روانی کی طرح اس میں بھی روانی کا پہلو ظاہر ہوتا ہے۔

         درج بالا مثال اور تصاویر سے Langue اور Parole کا تصور بڑی اچھی طرح نہ صرف واضح ہوگیا بلکہ ان کے فرق کا اظہار بھی بڑی عمدگی اور نفاست سے بھر پور انداز میں واضح ہو گیا۔

 (جاری ہے)

Monday, 30 December 2013

SIGNIFIER & SIGNIFIED

SIGNIFIER & SIGNIFIED

            سوسئیر نے نشان کی دو پرتیں بیان کی ہیں۔ پہلی کو وہ ’’ تصورنما ‘‘ Signifier سے تعبیر کرتا ہے اور دوسری کو ’’ تصور معنی ‘‘ Signified کا نام دیتا ہے۔
            جب کوئی نشان کسی دوسرے نشان کے ساتھ جڑتا ہے تو معنی پیدا ہوتے ہیں۔ نشان کسی نہ کسی تخیل کو جنم دیتا ہے اور توجہ اسی جانب مرکوز ہو جاتی ہے۔ ایک نشان کا دوسرے نشا ن سے ٹانکا لگتا ہے تو صوت ذہن پر ایک نقش ابھارتی ہے اورتصور نما سے تصورمعنی کا فاصلہ طے ہوتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ تصور نما اور تصور معنی کے درمیان جو پردہ حائل ہوتا ہے وہ چھٹ جاتا ہے اور معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب ہر بار ٹانکا لگتا ہے تو معنی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جب پھر ٹانکا لگتا ہے تو پھر معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ٹانکا نہ لگے تو لسانی نشان پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پھول جو ویرانے میں کھلتا ہے لسانی نشان نہیں کیونکہ اسے لسانی نشان میں ڈھالنے والا کوئی موجودہی نہیں۔لیکن جب اسی پھول کو کسی ثقافتی دائرے میں رکھ دیں تو نشان بن جاتا ہے توجہ کو مرکوز کرتا ہے مثلاً جنازے کا حصہ بنا دیں تو وہ غم کا نشان بن جائے گا ایسی صورت میں پھول تصور نما Signifier اور غم بطور تصور معنی یعنی Signified متصور ہو گا۔گویا پھول کو یوں بطورِ نشان استعمال کیا گیا تو وہ معنی دے گیا لہٰذا سوسئیر کے مطابق زبان ایک ہئیت یعنی Form ہے موجود باالذات یا Substance نہیں۔

 (جاری ہے)

Sunday, 29 December 2013

STRUCTURELISM

STRUCTURELISM

                بدلتے ہوئے فلسفیانہ افکارو نظریات کی روشنی میں سوسئیر نے جو ’’ ادبی اور لسانی‘‘ نظریہ پیش کیا وہ ’’STRUCTURELISM ‘‘ کہلاتا ہے۔ زبان کا پورا نظام نشانات اور نشانات پر ہی مبنی ہے۔ جسے وہ SIMIOLOGY کا نام دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
How does langauge come in to being ?
           زبان میں نشانات ہی نشانات ہیں۔ جب ایک نشان کے ساتھ دوسرا نشان ملتا ہے تو زبان وجود میں آتی ہے ۔جس طرح دیوار بنی یعنی ایک اینٹ کے ساتھ دوسری اینٹ متصل ہوئی اور دیوار کا وجود سامنے آ گیا ۔ گو کہ ایک اینٹ دوسری اینٹ سے مختلف ہے اسی طرح نشانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان کے باہمی ربط سے زبا ن وجود میں آتی ہے۔
سوسئیر کے فکری نظام کی دراصل شروعات ہی اس بات سے ہوتی ہیں کہ ’’ زبان ‘‘ نشانات کا ایک سسٹم ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نشانا ت سے کیا مراد ہے؟
            حقیقت میں نشانات کی تین اقسام ہیں اولذکر قسم وہ ہے جسے Index کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ دھواں اس بات کا Index ہے کہ کسی جگہ پر آگ جل رہی ہے۔ ثانیتہً Icon ہیں جو کہ مشابہت پر استوار ہوتے ہیں مثلاً کسی کا پورٹریٹ جو ہو بہو اس کی اصل شکل کے مشابہہ ہوتا ہے۔ موخرالذکروہ ہے جس میں دو اشیا ء کا ربطِ باہم محض علامتی نوعیت کا ہوتا ہے مثال کے طور پر کھانے کے اختتام پر میٹھا کھانا اس بات کی علامت ہے کہ کھانے کا اختتام ہو گیا یا کر دیا گیا ہے۔ سوسئیر کے نزدیک لسانی نشان یعنی Linguistic Sign کا تعلق اس آخری نشانات کی قسم سے ہے جس میں ہیئت Form اور خیال Concept کا نقطہ اتصال وجود میں آتا ہے۔ نشان آپ کی توجہ کسی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ یعنی نشان توجہ کو مائل کرتا ہے کہ وہ کسی جانب مرکوز ہو اور آپ کے ذہن میں کوئی خیال ابھرے۔

 (جاری ہے)

Saturday, 28 December 2013

سائنسی مطالعہ

سائنسی مطالعہ

    سوسئیر نے اپنے دلائل اور اثبات سے یہ بات ثابت کی کہ زبان کا مطالعہ فقط اس کے اجزایا محض تاریخی ( DIACHRONIC) اعتبارسے نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ اس دور کا عام رواج اور دستور تھا بلکہ اُن رشتوں کی رو سے کرنا چاہئے جن کی وجہ سے زبان کے اجزاباہم ربط رکھتے اور عمل آرا ہوتے ہیں۔یعنی زبان کا مطالعہ ایک مربوط اور وحدانی نظام کے طور پر کرنا چاہئے۔نیز چونکہ زبان کا وحدانی نظام وقت کی کسی ایک سطح پر خود کفیل اور مکمل و جامع ہوتا ہے جس کو ہم ہر روز استعمال لاتے ہیں اوربخوبی محسوس بھی کرتے ہیں۔اس لئے زبان کا مطالعہ حاضر وقت کی سطح پر ممکن ہے۔ حاضر وقت کے مطالعہ کو سوسئیر ’’SYNCHRONIC ‘‘ مطالعہ کا نام دیتا ہے اور یہ بات دلائل و براہین کی روشنی میں ثابت کرتا ہے کہ حاضر وقت کا مطالعہ ہی ’’ سائنسی مطالعہ ‘‘ ہو سکتا ہے۔س

                         سوسئیر کا زبان کے ایسے مطالعہ پر اصرار وزور دینا اس لئے لسانیات کے لئے اہم ثابت ہوا کہ سوسئیر نے زبان کی تاریخی جہت و سمت کے علاوہ زبان کے حاضر ساختی نظام کے اعتراف کی راہیں کھول دیں۔مشہور فلاسفر مارکسی مفکر فیڈرک جیمسن کے بقول سوسئیر کی عقل ودانش ، فہم و فراست اور جدتِ طبع کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس نے یہ اصرار کیا کہ زبان کا کلی نظام ہر لمحے میں مکمل ہے خواہ ایک لمحہ پہلے ہی اس میں کوئی تبدیلی کیوں نہ آئی ہو۔ زبان کے ابتدائی ور تاریخی ارتقاو ابتداسے ہٹ کر ’’ زبان وقت کے ہر لمحے اور ہرلحظے میں ایک کلی اور مکمل نظام کی حامل ہوتی ہے‘‘۔اسی وجہ سے دنیا و مافیہا کی کوئی بھی زبان ہو وہ ہر وقت کسی بھی قیدوبند کی پابندی کے بغیر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اہلِ زبان پر یا زبان بولنے والوں پر کوئی بھی اسی پابندی یا قید نہیں لگائی جاسکتی کہ وہ اس زبان کے ارتقاو ابتدا کا وسیع تر مطالعہ یا شعور رکھتے ہوں یا پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جو جو بھی تبدیلیاں اور بہتری اس زبان میں رو نما ہوئی وہ ان سے کماحقہُ واقف ہوں اوریہ ساری کار گزاری ان کے علم ویقین میں ہو۔ سوسئیر اسی بات پر اصرار کرتا ہے کہ ہر حاضر وقت میں زبان کا نظام کلی اور مکمل ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ حاضر وقت کے مطالعہ کو ہی اہمیت دیتا ہے۔

 (جاری ہے)

Friday, 27 December 2013

ارتباط و تضاد

ارتباط و تضاد

         سوسیئر کے زمانے تک یہ فکر اور عام خیال پایا جاتا تھا کہ دنیا آزادانہ اشیا ء سے عبارت ہے۔ان اشیا ء کی معروضی تعریف اور کسی حد تک درجہ بندی کرنا ممکنات میں شامل ہے۔زبان کے بارے میں یہ افکار ونظریات پائے جاتے تھے کہ ’’ زبان لفظوں کا مجموعہ ہے اور ہر لفظ اپنا الگ الگ معنی رکھتا ہے جس کی آزادانہ تعریف ممکن ہے‘‘ سوسیئر کا سب سے اہم اور عظیم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنی عقل و دانش اور فہم وفراست کی بنا پر ہزاروں سالوں سے مانے جانے والے زبان کے ان افکار و نظریات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہ صرف صفحہ ہستی سے نابودو مسمار کر دیا بلکہ دنیا کو اپنے افکارو نظریات سے روشناس کرواتے ہوئے ایک الگ اور منفرد ’’ادبی و لسانی‘‘ نظریہ پیش کیااور زبان کے نسبتی RELATIONAL تصور کو پیش کیا جس کی وجہ سے مستقبل میں زبان کے بارے سوچنے اور جاننے کی اقدار یکسر تبدیل ہو کر رہ گئیں۔
          سوسیئر کا سب سے غیر معمولی تخلیقی صلاحتیوں سے پُر، غیر معمولی طور پر نیا ، منفردوالگ اور انقلاب انگیز پہلویہ تھا کہ زبان اشیاء کو نام دینے یعنی ’’NOMENCLATURE ‘‘ تسمیہ کا نظام نہیں بلکہ زبان افتراقات ( تضادیعنی زبان معنی کی عدم موجودگی میں بھی معنی متعین کرتی ہے) کا نظام ہے جس میں کوئی مثبت عنصر نہیں ہے۔اور یہ پورا نظام ’’ارتباط و تضاد‘‘ پر مبنی ہے۔ جیسے دیواراینٹوں سے بنائی جاتی ہے لیکن اس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے مختلف اور الگ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے منسلک اور جُڑی ہوئی ہے۔ اینٹوں میں تضاد کے ساتھ ساتھ ایک باہمی ارتباط کا رشتہ پایاجا رہا ہے اور اس کو کسی طرح بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔منطقی طور پر زبان اشیا ء سے پہلے ہے اور اس کا کام اشیا ء کو نام دینے کی بجائے اُن کے تصورات میں فرق کے رشتوں کے ذریعے شناخت اور تعلق استوار کرنا ہے۔جس طرح دیوار کی اینٹیں گو ایک دوسری سے مختلف اور الگ الگ ہیں لیکن ان کے اندر باوجود اس فرق اور تضاد کے ایک تعلق اور رشتہ ( ارتباط) قائم ودائم ہے۔بالکل اسی طرح زبان کے اندر بھی یہ فکر اور سوچ کار فرما ہے۔

 (جاری ہے)

Thursday, 26 December 2013

لسانیات اورSimiology

لسانیات اورSimiology

          ان کی پہلی تفصیلی کتاب Memoire sur le systeme primitive des voyelles dans les langues indo-europeennes ، 1878 میں شائع ہوئی جس میں انہوں نے بنیادی طور پر (Thesis on the original system of vowels in Indo-European Languages) پر تفصیلی بحث کی اور اسی وجہ سے آپ کو ماہرِ لسانیات کو طور پر نہ صرف سراہا گیا بلکہ ناقدین نے بھی ان کے حق میں تعریف کے پل باندھ دئیے۔
         اگرچہ اس تصنیف کے علاوہ اس کی اپنی ذاتی کوئی تحریر تو باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے نہ آئی کیونکہ بنیا دی طورپر سوسیئر نے معلمی کو بطور پیشے کے اختیار کیا اور بطور معلم و انسٹرکٹر پیرس کے ایک سکول 201cole des Hautes 201tudes (\"School of Advanced Studies\") میں 1881 سے لے کر 1891 تک اپنے فرائض منصبی ادا کئے ۔ اور بطور پروفیسرIndo-European linguisticsand Sanskrit (1901-11) and of general linguistics (1907-11) at the University of Geneva. میں اپنے افکار وخیالات سے قوم ا کو ہمکنار کیا اور پنے جواہر پارے علم وادب کے متلاشیوں اورطلب و جستجو رکھنے والوں کے لئے وا کئے۔
        جنیوا یونیورسٹی سوئٹزرلینڈمیں اپنی عمر کے آخری سالوں میں سوسیئر نے جو جواہرپارے اور فکر انگیز خیالات اپنے لیکچروں کی صورت میں پیش کئے ان کو اس کے شاگردوں نے نوٹس کی صورت میں محفوظ کیا ہوا تھا اور انہی نوٹسوں کواس کے شاگردوں نے سوسیئر کی موت) (1913کے تقریباًدو سال بعد 1916 میں COURSE DE LINGUISTIQUE GENERALE کے نام سے شائع کیا۔

 جب سوسیئر نے اپنے افکا ر وخیالات کو دنیا کے سامنے پیش کیا تو اسے یہ تو غالب گمان تھا کہ ایک دن اس دنیا میں نشانات (Simiology) یعنی ترسیل معنی کا وسیع تر اور جامع ضابطہ علم وجود میں آئے گااور لسانیات جس کا ایک اہم اور ضروری حصہ بنے گی لیکن اس کو شائد یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کے وضع کے گئے افکار و خیالات کے اثرات اس قدر اہم اور نتیجہ خیز ہوں گے کہ زبان، انسان اور کائنات کے رشتوں کی دنیا ہی بدل جائے گی۔ساتھ ہی نہ صرف ادبیات ، فلسفہ ، نظریات، لسانیات بلکہ دیگر شعبہ جات علوم و فنون بھی اس سے متا ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ اور اس کے اثرات بڑے دیرپا ہونے کے علاوہ علمی دنیا میں بے مثال اور لافانی نقوش مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ بے شمار تاریخی اور ہزاروں سالوں سے مروجہ قوانین و ضوابط کو صفحہ ہستی سے ہمیشہ ہمشہ کے لئے نابودو مسمار کر کے رکھ دیں گے۔اسی امر کے نتیجہ کے طور پر لسانیات جس کو ماضی میں معض ایک تیسرے درجے کا ضابطہ علم سمجھا جاتا تھااور اس کو اس کا اصلی مقام اورمرتبہ نہیں دیا جاتا تھا آج ان افکار و نظریات کی بدولتSocial and Cultural Sciences میں نہ صرف ایک بنیادی اور مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے بلکہ دورِ جدید میں ہر طرف لسانیات ہی کی حکومت نظر آرہی ہے ۔
     سوسیئر کی فرانسیسی کتابCOURSE DE LINGUISTIQUE GENERALE کا انگریزی ترجمہ تو چار دہاہیوں کے بعد 1959 ء میں شائع ہوالیکن اس ترجمے سے بہت پہلے یورپ میں سوسیئرکے خیالات زبان زدِعام ہوگئے تھے۔زبان کے بارے میں سوسیئر کے خیالات اس قدرغیر معمولی تخلیقی صلاحتیوں سے پُر، غیر معمولی طور پر نیا ، منفردوالگ اور انقلاب آفریں تھے کہ لسانیاتی فِکر پران کے گہر ے نقوش نقش ہوئے۔اور مستقبل میں یہ خیالات و تجربات ساختیات اور پسِ ساختیات کے لئے بنیاد بنے۔ ساختیات اور پسِ ساختیات کی ساری عمارت سوسیئر کے افکارو نظریات پر ہی کھڑی نظر آتی ہے۔

(جاری ہے)

Tuesday, 24 December 2013

Ferinand de Saussure

Ferinand de Saussure

     سوسئیر 26 نومبر1857کوGeneva سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش ایک ایسے علمی اور ادبی خاندان میں ہوئی جس کے سائنسی میدان میں کار ہائے نمایاں نہ صرف مسلمہ تھے بلکہ ایک تاریخی حیثیت کے بھی حامل تھے ۔ اپنے آبا ؤ اجداد کے علمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سوسئیر نے 1875 میں Prestigious University of Geneva میں کیمسٹری اور فزکس کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی لیکن اپنے فطری اور طبعی رجحان کی وجہ سے جلد ہی 1876 میں وہ لسانیات کی تعلیم کی طرف مائل ہو گئے۔ سوسئیر نے 1876 سے 1878 تک University of Berlin میں اپنی تعلیمی سر گرمیاں جاری رکھیں اور اپنی فطری اور طبعی پیاس کو بجھانے کے لئے تقابلی گرائمر اور ہندی یورپی زبانوں کا مطالعہ کرنے کے لئے University of Leipzig میں داخلہ لیا۔
      ایک روشن خیال اور طلبِ علم کے متلاشی کے طور پر سوسئیر کا تعلیمی سفر شروع ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔یہ صرف محسوس ہونے تک محدود نہیں بلکہ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ اس نے لسانیات کے میدان میں ایک ابتدائی وعدہ کیاہوا تھا جو کہ اس نے کما حقہُ پوری محنت ، لگن اور ایمانداری سے پورا کیا۔ اس نے انگریزی ، فرانسیسی ،سنسکرت، یونانی،جر من اور لا طینی زبانوں پر نہ صرف پہلے خود عبور حاصل کیابلکہ مختلف زبانوں کے گہرے سمندروں میں غوطہ زن ہو کر ان کی ہر ایک گہرائی اور راز کو جانا اور پھر رہتی دنیا کے سامنے ایک منجھے ہوئے عظیم ماہرِ لسانیات کے طور پر اصول و ضوابط نہ صرف وضع کئے بلکہ دنیا کو جدید نظریات اورہمہ گیر لسانی شعور سے روشناس کروایا۔ اسی لئے سوسئیر کو’’ جدید نظریات‘‘ کا بانی و خالق اور’’ جدید لسانیات‘‘ کے باپ کے طور پر جانا جاتا ہے۔