سائنسی مطالعہ
سوسئیر نے اپنے دلائل اور اثبات سے یہ بات ثابت کی کہ زبان کا مطالعہ فقط
اس کے اجزایا محض تاریخی ( DIACHRONIC) اعتبارسے نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ
اس دور کا عام رواج اور دستور تھا بلکہ اُن رشتوں کی رو سے کرنا چاہئے جن
کی وجہ سے زبان کے اجزاباہم ربط رکھتے اور عمل آرا ہوتے ہیں۔یعنی زبان کا
مطالعہ ایک مربوط اور وحدانی نظام کے طور پر کرنا چاہئے۔نیز چونکہ زبان کا
وحدانی نظام وقت کی کسی ایک سطح پر خود کفیل اور مکمل و جامع ہوتا ہے جس کو
ہم ہر روز استعمال لاتے ہیں اوربخوبی محسوس بھی کرتے ہیں۔اس لئے زبان
کا مطالعہ حاضر وقت کی سطح پر ممکن ہے۔ حاضر وقت کے مطالعہ کو سوسئیر
’’SYNCHRONIC ‘‘ مطالعہ کا نام دیتا ہے اور یہ بات دلائل و براہین کی
روشنی میں ثابت کرتا ہے کہ حاضر وقت کا مطالعہ ہی ’’ سائنسی مطالعہ ‘‘
ہو سکتا ہے۔س
سوسئیر کا زبان کے ایسے مطالعہ پر اصرار وزور دینا اس لئے لسانیات کے لئے
اہم ثابت ہوا کہ سوسئیر نے زبان کی تاریخی جہت و سمت کے علاوہ زبان کے حاضر
ساختی نظام کے اعتراف کی راہیں کھول دیں۔مشہور فلاسفر مارکسی مفکر فیڈرک
جیمسن کے بقول سوسئیر کی عقل ودانش ، فہم و فراست اور جدتِ طبع کا اندازہ
اس بات سے ہوتا ہے کہ اس نے یہ اصرار کیا کہ زبان کا کلی نظام ہر لمحے میں
مکمل ہے خواہ ایک لمحہ پہلے ہی اس میں کوئی تبدیلی کیوں نہ آئی ہو۔ زبان کے
ابتدائی ور تاریخی ارتقاو ابتداسے ہٹ کر ’’ زبان وقت کے ہر لمحے اور
ہرلحظے میں ایک کلی اور مکمل نظام کی حامل ہوتی ہے‘‘۔اسی وجہ سے دنیا و
مافیہا کی کوئی بھی زبان ہو وہ ہر وقت کسی بھی قیدوبند کی پابندی کے بغیر
بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اہلِ زبان پر یا زبان بولنے والوں پر کوئی بھی اسی
پابندی یا قید نہیں لگائی جاسکتی کہ وہ اس زبان کے ارتقاو ابتدا کا وسیع تر
مطالعہ یا شعور رکھتے ہوں یا پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جو جو بھی
تبدیلیاں اور بہتری اس زبان میں رو نما ہوئی وہ ان سے کماحقہُ واقف ہوں
اوریہ ساری کار گزاری ان کے علم ویقین میں ہو۔ سوسئیر اسی بات پر اصرار
کرتا ہے کہ ہر حاضر وقت میں زبان کا نظام کلی اور مکمل ہوتا ہے۔ اسی لئے
وہ حاضر وقت کے مطالعہ کو ہی اہمیت دیتا ہے۔
(جاری ہے)
No comments:
Post a Comment