Monday, 30 December 2013

SIGNIFIER & SIGNIFIED

SIGNIFIER & SIGNIFIED

            سوسئیر نے نشان کی دو پرتیں بیان کی ہیں۔ پہلی کو وہ ’’ تصورنما ‘‘ Signifier سے تعبیر کرتا ہے اور دوسری کو ’’ تصور معنی ‘‘ Signified کا نام دیتا ہے۔
            جب کوئی نشان کسی دوسرے نشان کے ساتھ جڑتا ہے تو معنی پیدا ہوتے ہیں۔ نشان کسی نہ کسی تخیل کو جنم دیتا ہے اور توجہ اسی جانب مرکوز ہو جاتی ہے۔ ایک نشان کا دوسرے نشا ن سے ٹانکا لگتا ہے تو صوت ذہن پر ایک نقش ابھارتی ہے اورتصور نما سے تصورمعنی کا فاصلہ طے ہوتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ تصور نما اور تصور معنی کے درمیان جو پردہ حائل ہوتا ہے وہ چھٹ جاتا ہے اور معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب ہر بار ٹانکا لگتا ہے تو معنی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جب پھر ٹانکا لگتا ہے تو پھر معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ٹانکا نہ لگے تو لسانی نشان پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پھول جو ویرانے میں کھلتا ہے لسانی نشان نہیں کیونکہ اسے لسانی نشان میں ڈھالنے والا کوئی موجودہی نہیں۔لیکن جب اسی پھول کو کسی ثقافتی دائرے میں رکھ دیں تو نشان بن جاتا ہے توجہ کو مرکوز کرتا ہے مثلاً جنازے کا حصہ بنا دیں تو وہ غم کا نشان بن جائے گا ایسی صورت میں پھول تصور نما Signifier اور غم بطور تصور معنی یعنی Signified متصور ہو گا۔گویا پھول کو یوں بطورِ نشان استعمال کیا گیا تو وہ معنی دے گیا لہٰذا سوسئیر کے مطابق زبان ایک ہئیت یعنی Form ہے موجود باالذات یا Substance نہیں۔

 (جاری ہے)

No comments:

Post a Comment