Tuesday, 24 December 2013

Ferinand de Saussure

Ferinand de Saussure

     سوسئیر 26 نومبر1857کوGeneva سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش ایک ایسے علمی اور ادبی خاندان میں ہوئی جس کے سائنسی میدان میں کار ہائے نمایاں نہ صرف مسلمہ تھے بلکہ ایک تاریخی حیثیت کے بھی حامل تھے ۔ اپنے آبا ؤ اجداد کے علمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سوسئیر نے 1875 میں Prestigious University of Geneva میں کیمسٹری اور فزکس کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی لیکن اپنے فطری اور طبعی رجحان کی وجہ سے جلد ہی 1876 میں وہ لسانیات کی تعلیم کی طرف مائل ہو گئے۔ سوسئیر نے 1876 سے 1878 تک University of Berlin میں اپنی تعلیمی سر گرمیاں جاری رکھیں اور اپنی فطری اور طبعی پیاس کو بجھانے کے لئے تقابلی گرائمر اور ہندی یورپی زبانوں کا مطالعہ کرنے کے لئے University of Leipzig میں داخلہ لیا۔
      ایک روشن خیال اور طلبِ علم کے متلاشی کے طور پر سوسئیر کا تعلیمی سفر شروع ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔یہ صرف محسوس ہونے تک محدود نہیں بلکہ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ اس نے لسانیات کے میدان میں ایک ابتدائی وعدہ کیاہوا تھا جو کہ اس نے کما حقہُ پوری محنت ، لگن اور ایمانداری سے پورا کیا۔ اس نے انگریزی ، فرانسیسی ،سنسکرت، یونانی،جر من اور لا طینی زبانوں پر نہ صرف پہلے خود عبور حاصل کیابلکہ مختلف زبانوں کے گہرے سمندروں میں غوطہ زن ہو کر ان کی ہر ایک گہرائی اور راز کو جانا اور پھر رہتی دنیا کے سامنے ایک منجھے ہوئے عظیم ماہرِ لسانیات کے طور پر اصول و ضوابط نہ صرف وضع کئے بلکہ دنیا کو جدید نظریات اورہمہ گیر لسانی شعور سے روشناس کروایا۔ اسی لئے سوسئیر کو’’ جدید نظریات‘‘ کا بانی و خالق اور’’ جدید لسانیات‘‘ کے باپ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

3 comments:

  1. ما شاءاللہ بہت اچھا آرٹیکل لکھا ہے۔۔

    ReplyDelete
  2. زبردست ۔ سوسئیر کی کتاب کا ترجمہ اردو میں ہوا ہے ؟

    ReplyDelete