لسانیات اورSimiology
ان کی پہلی تفصیلی کتاب Memoire sur le systeme primitive des voyelles dans
les langues indo-europeennes ، 1878 میں شائع ہوئی جس میں انہوں نے
بنیادی طور پر (Thesis on the original system of vowels in Indo-European
Languages) پر تفصیلی بحث کی اور اسی وجہ سے آپ کو ماہرِ لسانیات کو طور
پر نہ صرف سراہا گیا بلکہ ناقدین نے بھی ان کے حق میں تعریف کے پل باندھ
دئیے۔
اگرچہ اس تصنیف کے علاوہ اس کی اپنی ذاتی کوئی تحریر تو باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے نہ آئی کیونکہ بنیا دی طورپر سوسیئر نے معلمی کو بطور پیشے کے اختیار کیا اور بطور معلم و انسٹرکٹر پیرس کے ایک سکول 201cole des Hautes 201tudes (\"School of Advanced Studies\") میں 1881 سے لے کر 1891 تک اپنے فرائض منصبی ادا کئے ۔ اور بطور پروفیسرIndo-European linguisticsand Sanskrit (1901-11) and of general linguistics (1907-11) at the University of Geneva. میں اپنے افکار وخیالات سے قوم ا کو ہمکنار کیا اور پنے جواہر پارے علم وادب کے متلاشیوں اورطلب و جستجو رکھنے والوں کے لئے وا کئے۔
جنیوا یونیورسٹی سوئٹزرلینڈمیں اپنی عمر کے آخری سالوں میں سوسیئر نے جو جواہرپارے اور فکر انگیز خیالات اپنے لیکچروں کی صورت میں پیش کئے ان کو اس کے شاگردوں نے نوٹس کی صورت میں محفوظ کیا ہوا تھا اور انہی نوٹسوں کواس کے شاگردوں نے سوسیئر کی موت) (1913کے تقریباًدو سال بعد 1916 میں COURSE DE LINGUISTIQUE GENERALE کے نام سے شائع کیا۔
اگرچہ اس تصنیف کے علاوہ اس کی اپنی ذاتی کوئی تحریر تو باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے نہ آئی کیونکہ بنیا دی طورپر سوسیئر نے معلمی کو بطور پیشے کے اختیار کیا اور بطور معلم و انسٹرکٹر پیرس کے ایک سکول 201cole des Hautes 201tudes (\"School of Advanced Studies\") میں 1881 سے لے کر 1891 تک اپنے فرائض منصبی ادا کئے ۔ اور بطور پروفیسرIndo-European linguisticsand Sanskrit (1901-11) and of general linguistics (1907-11) at the University of Geneva. میں اپنے افکار وخیالات سے قوم ا کو ہمکنار کیا اور پنے جواہر پارے علم وادب کے متلاشیوں اورطلب و جستجو رکھنے والوں کے لئے وا کئے۔
جنیوا یونیورسٹی سوئٹزرلینڈمیں اپنی عمر کے آخری سالوں میں سوسیئر نے جو جواہرپارے اور فکر انگیز خیالات اپنے لیکچروں کی صورت میں پیش کئے ان کو اس کے شاگردوں نے نوٹس کی صورت میں محفوظ کیا ہوا تھا اور انہی نوٹسوں کواس کے شاگردوں نے سوسیئر کی موت) (1913کے تقریباًدو سال بعد 1916 میں COURSE DE LINGUISTIQUE GENERALE کے نام سے شائع کیا۔
جب سوسیئر نے اپنے افکا ر وخیالات کو دنیا کے سامنے پیش کیا تو اسے یہ تو
غالب گمان تھا کہ ایک دن اس دنیا میں نشانات (Simiology) یعنی ترسیل معنی
کا وسیع تر اور جامع ضابطہ علم وجود میں آئے گااور لسانیات جس کا ایک اہم
اور ضروری حصہ بنے گی لیکن اس کو شائد یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کے وضع کے
گئے افکار و خیالات کے اثرات اس قدر اہم اور نتیجہ خیز ہوں گے کہ زبان،
انسان اور کائنات کے رشتوں کی دنیا ہی بدل جائے گی۔ساتھ ہی نہ صرف ادبیات ،
فلسفہ ، نظریات، لسانیات بلکہ دیگر شعبہ جات علوم و فنون بھی اس سے متا
ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ اور اس کے اثرات بڑے دیرپا ہونے کے علاوہ علمی
دنیا میں بے مثال اور لافانی نقوش مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ بے شمار تاریخی
اور ہزاروں سالوں سے مروجہ قوانین و ضوابط کو صفحہ ہستی سے ہمیشہ ہمشہ کے
لئے نابودو مسمار کر کے رکھ دیں گے۔اسی امر کے نتیجہ کے طور پر لسانیات جس
کو ماضی میں معض ایک تیسرے درجے کا ضابطہ علم سمجھا جاتا تھااور اس کو اس
کا اصلی مقام اورمرتبہ نہیں دیا جاتا تھا آج ان افکار و نظریات کی
بدولتSocial and Cultural Sciences میں نہ صرف ایک بنیادی اور مرکزی
حیثیت اختیار کر چکی ہے بلکہ دورِ جدید میں ہر طرف لسانیات ہی کی حکومت نظر
آرہی ہے ۔
سوسیئر کی فرانسیسی کتابCOURSE DE LINGUISTIQUE GENERALE کا انگریزی ترجمہ تو چار دہاہیوں کے بعد 1959 ء میں شائع ہوالیکن اس ترجمے سے بہت پہلے یورپ میں سوسیئرکے خیالات زبان زدِعام ہوگئے تھے۔زبان کے بارے میں سوسیئر کے خیالات اس قدرغیر معمولی تخلیقی صلاحتیوں سے پُر، غیر معمولی طور پر نیا ، منفردوالگ اور انقلاب آفریں تھے کہ لسانیاتی فِکر پران کے گہر ے نقوش نقش ہوئے۔اور مستقبل میں یہ خیالات و تجربات ساختیات اور پسِ ساختیات کے لئے بنیاد بنے۔ ساختیات اور پسِ ساختیات کی ساری عمارت سوسیئر کے افکارو نظریات پر ہی کھڑی نظر آتی ہے۔
(جاری ہے)
سوسیئر کی فرانسیسی کتابCOURSE DE LINGUISTIQUE GENERALE کا انگریزی ترجمہ تو چار دہاہیوں کے بعد 1959 ء میں شائع ہوالیکن اس ترجمے سے بہت پہلے یورپ میں سوسیئرکے خیالات زبان زدِعام ہوگئے تھے۔زبان کے بارے میں سوسیئر کے خیالات اس قدرغیر معمولی تخلیقی صلاحتیوں سے پُر، غیر معمولی طور پر نیا ، منفردوالگ اور انقلاب آفریں تھے کہ لسانیاتی فِکر پران کے گہر ے نقوش نقش ہوئے۔اور مستقبل میں یہ خیالات و تجربات ساختیات اور پسِ ساختیات کے لئے بنیاد بنے۔ ساختیات اور پسِ ساختیات کی ساری عمارت سوسیئر کے افکارو نظریات پر ہی کھڑی نظر آتی ہے۔
(جاری ہے)
No comments:
Post a Comment