Friday, 27 December 2013

ارتباط و تضاد

ارتباط و تضاد

         سوسیئر کے زمانے تک یہ فکر اور عام خیال پایا جاتا تھا کہ دنیا آزادانہ اشیا ء سے عبارت ہے۔ان اشیا ء کی معروضی تعریف اور کسی حد تک درجہ بندی کرنا ممکنات میں شامل ہے۔زبان کے بارے میں یہ افکار ونظریات پائے جاتے تھے کہ ’’ زبان لفظوں کا مجموعہ ہے اور ہر لفظ اپنا الگ الگ معنی رکھتا ہے جس کی آزادانہ تعریف ممکن ہے‘‘ سوسیئر کا سب سے اہم اور عظیم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنی عقل و دانش اور فہم وفراست کی بنا پر ہزاروں سالوں سے مانے جانے والے زبان کے ان افکار و نظریات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہ صرف صفحہ ہستی سے نابودو مسمار کر دیا بلکہ دنیا کو اپنے افکارو نظریات سے روشناس کرواتے ہوئے ایک الگ اور منفرد ’’ادبی و لسانی‘‘ نظریہ پیش کیااور زبان کے نسبتی RELATIONAL تصور کو پیش کیا جس کی وجہ سے مستقبل میں زبان کے بارے سوچنے اور جاننے کی اقدار یکسر تبدیل ہو کر رہ گئیں۔
          سوسیئر کا سب سے غیر معمولی تخلیقی صلاحتیوں سے پُر، غیر معمولی طور پر نیا ، منفردوالگ اور انقلاب انگیز پہلویہ تھا کہ زبان اشیاء کو نام دینے یعنی ’’NOMENCLATURE ‘‘ تسمیہ کا نظام نہیں بلکہ زبان افتراقات ( تضادیعنی زبان معنی کی عدم موجودگی میں بھی معنی متعین کرتی ہے) کا نظام ہے جس میں کوئی مثبت عنصر نہیں ہے۔اور یہ پورا نظام ’’ارتباط و تضاد‘‘ پر مبنی ہے۔ جیسے دیواراینٹوں سے بنائی جاتی ہے لیکن اس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے مختلف اور الگ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے منسلک اور جُڑی ہوئی ہے۔ اینٹوں میں تضاد کے ساتھ ساتھ ایک باہمی ارتباط کا رشتہ پایاجا رہا ہے اور اس کو کسی طرح بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔منطقی طور پر زبان اشیا ء سے پہلے ہے اور اس کا کام اشیا ء کو نام دینے کی بجائے اُن کے تصورات میں فرق کے رشتوں کے ذریعے شناخت اور تعلق استوار کرنا ہے۔جس طرح دیوار کی اینٹیں گو ایک دوسری سے مختلف اور الگ الگ ہیں لیکن ان کے اندر باوجود اس فرق اور تضاد کے ایک تعلق اور رشتہ ( ارتباط) قائم ودائم ہے۔بالکل اسی طرح زبان کے اندر بھی یہ فکر اور سوچ کار فرما ہے۔

 (جاری ہے)

No comments:

Post a Comment