STRUCTURELISM
بدلتے ہوئے فلسفیانہ افکارو نظریات کی روشنی میں سوسئیر نے جو ’’ ادبی
اور لسانی‘‘ نظریہ پیش کیا وہ ’’STRUCTURELISM ‘‘ کہلاتا ہے۔ زبان کا
پورا نظام نشانات اور نشانات پر ہی مبنی ہے۔ جسے وہ SIMIOLOGY کا نام
دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
How does langauge come in to being ?
زبان میں نشانات ہی نشانات ہیں۔ جب ایک نشان کے ساتھ دوسرا نشان ملتا ہے تو زبان وجود میں آتی ہے ۔جس طرح دیوار بنی یعنی ایک اینٹ کے ساتھ دوسری اینٹ متصل ہوئی اور دیوار کا وجود سامنے آ گیا ۔ گو کہ ایک اینٹ دوسری اینٹ سے مختلف ہے اسی طرح نشانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان کے باہمی ربط سے زبا ن وجود میں آتی ہے۔
سوسئیر کے فکری نظام کی دراصل شروعات ہی اس بات سے ہوتی ہیں کہ ’’ زبان ‘‘ نشانات کا ایک سسٹم ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نشانا ت سے کیا مراد ہے؟
حقیقت میں نشانات کی تین اقسام ہیں اولذکر قسم وہ ہے جسے Index کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ دھواں اس بات کا Index ہے کہ کسی جگہ پر آگ جل رہی ہے۔ ثانیتہً Icon ہیں جو کہ مشابہت پر استوار ہوتے ہیں مثلاً کسی کا پورٹریٹ جو ہو بہو اس کی اصل شکل کے مشابہہ ہوتا ہے۔ موخرالذکروہ ہے جس میں دو اشیا ء کا ربطِ باہم محض علامتی نوعیت کا ہوتا ہے مثال کے طور پر کھانے کے اختتام پر میٹھا کھانا اس بات کی علامت ہے کہ کھانے کا اختتام ہو گیا یا کر دیا گیا ہے۔ سوسئیر کے نزدیک لسانی نشان یعنی Linguistic Sign کا تعلق اس آخری نشانات کی قسم سے ہے جس میں ہیئت Form اور خیال Concept کا نقطہ اتصال وجود میں آتا ہے۔ نشان آپ کی توجہ کسی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ یعنی نشان توجہ کو مائل کرتا ہے کہ وہ کسی جانب مرکوز ہو اور آپ کے ذہن میں کوئی خیال ابھرے۔
(جاری ہے)
How does langauge come in to being ?
زبان میں نشانات ہی نشانات ہیں۔ جب ایک نشان کے ساتھ دوسرا نشان ملتا ہے تو زبان وجود میں آتی ہے ۔جس طرح دیوار بنی یعنی ایک اینٹ کے ساتھ دوسری اینٹ متصل ہوئی اور دیوار کا وجود سامنے آ گیا ۔ گو کہ ایک اینٹ دوسری اینٹ سے مختلف ہے اسی طرح نشانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان کے باہمی ربط سے زبا ن وجود میں آتی ہے۔
سوسئیر کے فکری نظام کی دراصل شروعات ہی اس بات سے ہوتی ہیں کہ ’’ زبان ‘‘ نشانات کا ایک سسٹم ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نشانا ت سے کیا مراد ہے؟
حقیقت میں نشانات کی تین اقسام ہیں اولذکر قسم وہ ہے جسے Index کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ دھواں اس بات کا Index ہے کہ کسی جگہ پر آگ جل رہی ہے۔ ثانیتہً Icon ہیں جو کہ مشابہت پر استوار ہوتے ہیں مثلاً کسی کا پورٹریٹ جو ہو بہو اس کی اصل شکل کے مشابہہ ہوتا ہے۔ موخرالذکروہ ہے جس میں دو اشیا ء کا ربطِ باہم محض علامتی نوعیت کا ہوتا ہے مثال کے طور پر کھانے کے اختتام پر میٹھا کھانا اس بات کی علامت ہے کہ کھانے کا اختتام ہو گیا یا کر دیا گیا ہے۔ سوسئیر کے نزدیک لسانی نشان یعنی Linguistic Sign کا تعلق اس آخری نشانات کی قسم سے ہے جس میں ہیئت Form اور خیال Concept کا نقطہ اتصال وجود میں آتا ہے۔ نشان آپ کی توجہ کسی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ یعنی نشان توجہ کو مائل کرتا ہے کہ وہ کسی جانب مرکوز ہو اور آپ کے ذہن میں کوئی خیال ابھرے۔
(جاری ہے)
NICE
ReplyDeleteزبردست 👍 کیا جیلانی کامران کے لسانی نظریات مل سکتے ہیں
ReplyDelete